سرت،10؍اگست(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)امریکی اندازوں کے مطابق لیبیا کا سرت نامی شہر داعش کا گڑھ ہے، جہاں اُس کے جنگجوؤں کی تعداد تقریباً ایک ہزار ہے۔ امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ نے بتایا ہے کہ سرت میں لیبیا کے دستے اس شدت پسند ملیشیا کے خلاف برسرِ پیکار ہیں اور امریکا کے اسپیشل آپریشن دستے پہلی بار اُنہیں براہِ راست مدد فراہم کر رہے ہیں۔ امریکی اندازوں کے مطابق سرت میں داعش کے جنگجوؤں کی تعداد تقریباً ایک ہزار ہے۔امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس امریکی جریدے کو بتایا کہ یہ امریکی کمانڈو سرت کے مضافات میں قائم کیے گئے ایک جوائنٹ آپریشنز سینٹر میں رہتے ہوئے سرگرمِ عمل ہیں۔امریکی محکمہء دفاع نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ اُس نے لیبیا کی قومی وحدت کی حکومت کی درخواست پر سرت میں ایک فضائی آپریشن شروع کیا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی فورسز برطانوی دستوں کے ساتھ مل کر برسرِپیکار ہیں اور امریکی فضائی حملوں کے لیے رابطہ کاری کے ساتھ ساتھ پارٹنر فورسز کو انٹیلیجنس بھی فراہم کر رہی ہیں۔امریکی محکمہء دفاع نے واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کی تفصیلات پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے تاہم ماضی میں یہ محکمہ اس امر کی تصدیق کر چکا ہے کہ چھوٹی امریکی ٹیمیں لیبیا میں انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے میں مدد دے رہی ہیں۔پینٹاگان کی ایک خاتون ترجمان ہینریئیٹا لیوین نے اپنے ایک بیان میں بتایا تھا: امریکا منفرد نوعیت کی خدمات انجام دے رہا ہے، جن میں انٹیلیجنس، نگرانی اور حریف کی حرکات و سکنات پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ ہدف کی ٹھیک ٹھیک نشاندہی بھی شامل ہے۔خاتون ترجمان نے مزید کہا تھا: امریکی فورسز کی ایک چھوٹی سی نفری مقامی فورسز کے ساتھ معلومات کے تبادلے کے لیے لیبیا میں آتی جاتی رہی ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا کیونکہ ہم اسلامک اسٹیٹ ان لیبیااور دیگر دہشت گرد گروپوں کے خلاف اپنی لڑائی میں مزید شدت لا رہے ہیں۔
لیبیا میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کے حامی دستے سرت میں محصور داعش کے جنگجوؤں کے خلاف ہتھیار استعمال کرتے ہوئے۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکا اور برطانیہ کے باوردی فوجی کئی مرتبہ سرت میں دیکھے گئے ہیں۔ گزشتہ مہینے فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ نے لیبیا میں خطرناک انٹیلیجنس آپریشنز سرانجام دینے والے تین فرانسیسی فوجیوں کی ایک ہیلی کاپٹر کے حادثے میں ہلاکت کا اعلان کیا تھا۔ لیبیا کے ذرائع کے مطابق اس ہیلی کاپٹر کو مار گرایا گیا تھا۔شمالی افریقی ملک لیبیا اکتوبر 2011ء میں معمر القذافی کی معزولی کے بعد سے انتشار کا شکار ہے۔ معدنی تیل سے مالا مال اس ملک میں، جہاں ایک طرف دو متوازی حکومتیں اقتدار کے حصول کے لیے کوشاں ہیں، وہاں طاقت کے خلاء سے فائدہ اٹھا کر مختلف مسلح گروپ توانائی کے ذرائع پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے برسرِپیکار ہیں۔
یونان میں ستاون ہزار مہاجرین کے لیے نئے اپارٹمنٹ
کنمنگ،10؍اگست(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)یونانی کابینہ کے ایک رکن نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں پھنسے 57 ہزار مہاجرین کے لیے اپارٹمنٹس کی تعداد میں اضافے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ بلقان کی ریاستوں کی سرحدوں کی بندش کے بعد سے ہزاروں مہاجرین یونان میں پھنسے ہوئے ہیں۔یونانی حکومت کا منصوبہ ہے کہ ملک میں پھنس کر رہ جانے والے مہاجرین کے لیے رہائش گاہیں تیار کی جائیں۔ یونانی نائب وزیر دفاع دیمیتریس وِستاس، جو مہاجرین کے حوالے سے ملکی ٹاسک فورس کی سربراہی بھی کر رہے ہیں، نے کہا کہ ایتھنز حکومت چاہتی ہے کہ خراب حالت والے مہاجر کیمپ یا تو بند کر دیے جائیں گے یا پھر ان کی حالت بہتر بنائی جائے گی۔وِستاس نے بتایا کہ صرف سات ہزار کے قریب مہاجرین ایسے ہیں جو یونان میں اپارٹمنٹس یا ہوٹلوں میں مقیم ہیں، جب کہ اس حوالے سے ہدف یہ تھا کہ 20ہزار مہاجرین کو مناسب رہائش فراہم کی جائے۔ تاہم اب تک حکومت اپنا یہ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائی اور اسی لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مہاجرین کو مناسب رہائشی سہولیات فراہم کرنے کے لیے نئی رہائش گاہیں بنائی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں پہلے سے موجود خراب حال مہاجر کیمپوں اور عارضی بستیوں کو ختم کر دیا جائے گا اور جنہیں مرمت کر کے مناسب بنایا جا سکتا ہو، انہیں مناسب بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
وِستاس نے اعلان کیا کہ یونانی جزائر پر موجود مہاجرین کے وہاں قیام کے حالات بھی بہتر بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ مارچ میں ترکی اور یورپی یونین کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے بعد سے مہاجرین یونانی جزائر ہی پر روکے جاتے ہیں اور وہیں ان کی رجسٹریشن اور سیاسی پناہ کی درخواستوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔اس وقت یونانی جزائر پر قریب دس ہزار مہاجرین ایسے ہیں، جن کے قیام کے حوالے سے حالت زار پر انسانی حقوق کی تنظیمیں یونانی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ وِستاس نے کہا کہ ایسے مہاجرین جو سیاسی پناہ کی درخواستوں کے پہلے مرحلے سے گزر جائیں گے، انہیں یونان کے دیگر حصوں میں جانے کی اجازت ہو گی، تاہم باقی مہاجرین کو جزائر پر ہی رکھا جائے گا۔
بن غازی میں ہلاک ہونے والوں کے والدین کا ہلیری کے خلاف مقدمہ
طرابلس،10؍اگست(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)2001میں لیبیا کے شہر بن غازی میں حملے کے دوران ہلاک ہونے والے دو امریکیوں کے والدین نے ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔شان سمتھ اور ٹائرون ووڈز کے والدین پیٹریکا سمتھ اور چارلز ووڈز نے ہلیری کلنٹن کے خلاف ہتک عزت اور نامناسب موت کا مقدمہ دائر کیا ہے۔درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کے بیٹوں کی موت کی ایک وجہ سابق وزیر خاجہ کی جانب سے نجی ای میل کا استعمال تھی۔خیال رہے کہ 11ستمبر 2012کو ہونے والے حملے میں امریکی سفیر کرسٹوفر سٹیونز اور دیگر تین امریکی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ہلاک ہونے والے دو امریکیوں کے والدین کی جانب سے یہ درخواست کنزرویٹیو گروپ فریڈم واچ نے جمع کروائی ہے۔ان والدین کا ہلیری کلنٹن کے بارے میں کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے نجی سرور میں موجود اہم اور خفیہ معلومات کے حوالے سے انتہائی لاپروائی کا مظاہرہ کیا، جس کی وجہ سے لیبیا میں امریکی اہلکاروں کا مقام ظاہر ہوا۔